نئی دہلی، 22؍جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )بی جے پی کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی کے اسسٹنٹ رہ چکے وشومبھر شریواستو نے آج دعوی کیا کہ ستمبر 2013میں بی جے پی پارلیمانی بورڈ کی جس میٹنگ میں نریندر مودی کو پارٹی کے وزیر اعظم کے عہدہ کا امیدوار قرار دیا گیاتھا، اس میٹنگ میں شامل ہونے کے لیے اڈوانی تیار تھے لیکن لوگوں نے انہیں ان کو گھر پر ہی روک دیا تھا۔’اڈوانی کے ساتھ 32سال ‘نام کی اپنی کتاب کے رسم اجرا کے موقع پر شریواستو نے یہ دعوی کیا ہے۔یہ کتاب ملک کے سابق نائب وزیر اعظم اڈوانی کے ساتھ شریواستو کے تین دہائی پر مشتمل تعلقات کی یادداشتوں کا مجموعہ ہے۔اس کتاب کے رسم اجرا ء کی تقریب میں بی جے پی لیڈرسبرامنیم سوامی اور آر ایس ایس کے سابق مفکر کے این گوونداچاریہ بھی شامل تھے۔بہر حال اڈوانی کے دفتر نے کل زوردے کر کہا تھا کہ اس کتاب کے لیے ان کی رضامندی نہیں لی گئی ہے اور ان کی مرضی کے خلاف اسے شائع کیاگیاہے۔اڈوانی کے سکریٹری دیپک چوپڑہ کی جانب سے دئیے گئے اور پارٹی کی جانب سے جاری کئے گئے بیان میں کہاگیاکہ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ اس کتاب کے لیے لال کرشن اڈوانی کی رائے نہیں لی گئی ہے اور ان کی مرضی کے خلاف اسے شائع کیا گیا ہے۔شریواستو نے دعوی کیا کہ انہوں نے اڈوانی کو کتاب کا پہلا نسخہ دکھایا تھا اور ان کے مشورے پر کتاب میں کچھ چیزیں بدلی بھی گئی تھیں ۔وزیر اعظم کے عہدے کے لیے مودی کی امیدواری کے ممکنہ اعلان پر اڈوانی کی رائے کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال پر شریواستو نے کہاکہ میں آپ کو یہ بتا سکتا ہوں کہ اڈوانی جی بی جے پی دفتر میں میٹنگ میں شامل ہونے کے لیے تیار تھے اور کار میں بیٹھ بھی چکے تھے، لیکن ان کے گھر میں کچھ لوگوں نے انہیں روک دیا۔مودی کووزیراعظم کے عہدے کے لیے پارٹی کا امیدوار بنائے جانے کی مخالفت میں رہے اڈوانی نے پارلیمانی بورڈ کی اس میٹنگ میں شرکت نہیں کی تھی۔